10 جولائی 2011 - 19:30

اسلام ٹائمز:ایک محلے کی انجمن کے طور پر کام کرنے والی "انجمن سپاہ صحابہ" ASS کا تھوڑے ہی عرصے میں ملکی سطح پر انتہائی شدت پسند جماعت کے طور پر اُبھر کر سامنے آنا یقیناً اس کے پس پردہ "ضیائی انجینئیرز" کی کارستانی ہے۔

ابنا: لیکن معاملہ یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتا بلکہ انڈین، سعودی، صدام دور میں عراقی اور اب لیبین حکومت کی امداد یہ واضح کرتی ہے کہ اندرونی اور بیرونی استعماری طاقتیں اس شجرہ خبیثہ کی آبیاری میں کس قدر تن دہی سے مصروف عمل ہیں۔وکی لیکس کی گوہر افشانیاں پوری آب و تاب سے جاری ہیں، ہمارے موجودہ کالم کا موضوع بھی وکی لیکس کی ہی ایک کیبل ہے، پاکستانی میڈیا وکی لیکس کے انکشافات پر مسلسل تبصرے کرتا  رہتا ہے بلکہ بعض اوقات تو بال کی کھال اتارنے پر تل جاتا ہے، لیکن حیران کن حد تک اس انکشاف کے بارے میں کسی نے بھی لب کشائی نہیں کی، اس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہمارا میڈیا کتنا آزاد اور کتنا غیر جانبدار ہے۔وکی لیکس نے لاہور میں امریکی قونصل خانے کی ایک کیبل کو افشاں کیا ہے، یہ کیبل امریکی قونصل خانے کے سابقہ پرنسپل آفیسر برائن ڈی ہنٹ Bryan D. Hunt کی جانب سے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف امریکا کو مورخہ 20 مارچ 2009ء کو بھیجی گئی۔ اس کیبل میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ امریکا کو بتایا جاتا ہے کہ ہمارے پرنسپل آفیسر برائن ڈی ہنٹ کو فیصل آباد کے نامور دیوبندی عالم دین نے 18 مارچ کو ایک میٹنگ میں بتایا ہے کہ سپاہ صحابہ کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی کی لیبیا سے واپسی کے بعد سپاہ صحابہ نے فیصل آباد میں اپنی سرگرمیوں میں بہت اضافہ کر دیا ہے۔ سپاہ صحابہ، جیش محمد اور تحریک طالبان پاکستان کے حامی گروپس کو بھی اپنے اندر جذب کر رہی ہے۔دیوبندی عالم دین نے برائن ڈی ہنٹ کو یہ بھی بتایا کہ سپاہ صحابہ کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی چندہ اور فنڈز حاصل کرنے کی مہم پر لیبیا کے شہر تریپولی گئے تھے۔ اس ٹرپ کا انتظام لیبین حکومت نے کیا تھا کیونکہ "ایران اور ایرانی ایجنٹوں" کے خلاف کام کرنا لیبین Libyan حکومت اور سپاہ صحابہ کے مشترکہ اہداف ہیں۔ مولانا صاحب نے ہنٹ کو مزید بتایا کہ مولانا محمد احمد لدھیانوی کو لیبیا کی حکومت نے 312000 امریکی ڈالر جن کی قیمت 25 ملین پاکستان روپے بنتی ہے، ہدیہ کئے ہیں، جو جلد پاکستان پہنچ جائیں گے اور پاکستان میں سپاہ صحابہ کی سرگرمیوں میں اضافے کا باعث بنیں گے۔ برائن ڈی ہنٹ "مخبر مولانا" کے تعارف میں لکھتا ہے کہ مولانا ایک لمبے عرصے سے لاہور میں ہمارے قونصل خانے کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ امریکا کے پروگرام "انٹر نیشنل وزٹرز لیڈر شپ پروگرام" International Visitor Leadership Program IVLP کے تحت امریکا کے دورے بھی کر چکے ہیں۔ یہاں پر یہ کیبل ختم ہو جاتی ہے۔اس کیبل کی سچائی کے لئے اتنا ہی کافی ہے طرفین کی جانب سے ابھی تک کسی نے بھی اس کی تردید نہیں کی، نہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے، نہ لاہور کے امریکی قونصل خانے نے اور نہ ہی سپاہ صحابہ نے۔ اس کیبل میں ہونے والے دو انکشافات بہت اہم ہیں، ایک سپاہ صحابہ کی جانب سے لیبین گورنمنٹ سے شیعہ دشمنی میں مدد حاصل کرنا، دوسرا امریکی قونصلیٹ کا ہمارے نام نہاد دینی حلقوں کے اندر اپنے مخبر رکھنا۔ ایک محلے کی انجمن کے طور پر کام کرنے والی "انجمن سپاہ صحابہ" ASS کا تھوڑے ہی عرصے میں ملکی سطح پر انتہائی شدت پسند جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آنا یقیناً اس کے پس پردہ "ضیائی انجینئیرز" کی کارستانی ہے، لیکن معاملہ یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتا بلکہ انڈین، سعودی، صدام دور میں عراقی اور اب لیبین حکومت کی امداد یہ واضح کرتی ہے کہ اندرونی اور بیرونی استعماری طاقتیں اس شجرہ خبیثہ کی آبیاری میں کس قدر تن دہی سے مصروف عمل ہیں۔یہ کیبل پڑھ کر سپاہ صحابہ کے منحرف رہنما مولانا اللہ نواز بلوچ کا وہ بیان ذہن میں آ رہا ہے، جس میں انہوں نے اپنی قیادت پر الزام لگایا کہ یہ انڈین امداد پر پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد پھیلا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے مولانا نے سپاہ صحابہ سے اپنا استعفی دے دیا۔ ایسی ہی خبریں سپاہ صحابہ کے سابق سرپرست اور ہلاک شدہ مولانا علی شیر حیدری کے بارے میں بھی زبان زد خاص و عام تھیں، موصوف کا تعلق سندھ خیر پور میرس سے تھا، اور سندھ کے صحرائی سمگلرز کے ذریعے انہوں نے اپنے تعلقات انڈین خفیہ ایجنسی "را" سے بنا لئے تھے۔ اعظم طارق کی ہلاکت کے بعد علی شیر حیدری کا مدرسہ جامعہ حیدریہ لقمان خیر پور میرس سپاہ صحابہ میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا اور پورے ملک میں شدت پسندی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کے یہیں سے فنڈ جاری کیے جاتے تھے۔ بالآخر علی شیر حیدری جائیداد کے تنازعے میں مقامی قبیلے کے سربراہ کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا۔ فرقہ وارانہ انتہا پسندی و دہشت گردی پر یقین رکھنے والی اس جماعت کا غیر ملکی ہاتھوں میں کھیلنا، پاکستانی عوام کے لئے ایک "اوپن سیکرٹ" ہے۔ لیکن افسوس کے ملکی سلامتی اور سکیورٹی کے ذمہ دار ادارے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں اسی موقع کے لئے کسی شاعر نے کہا ہے۔

"جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے"دوسری طرف امریکی قونصل خانے سفارتی بھیس میں ملک کے اندر اپنے جاسوسوں کا نیٹ ورک بنا چکے ہیں۔  ہمیں یہ ماننا پڑھے گا کہ امریکا نے پاکستان کے اندر اپنے "ایسٹس" assets میں بہت اضافہ کر لیا ہے، خاص طور پر پاکستان کے مذہبی حلقوں میں اُن کے کتنے مخبر ہیں جو لمحہ بہ لمحہ خبریں امریکی قونصل خانوں تک پہنچاتے ہیں، مندرجہ بالا مثال سے آپ سمجھ سکتے ہیں۔  جبکہ ہماری لا اینڈ آرڈر اور سکیورٹی قائم رکھنے والے ادارے 75 فیصد بجٹ ہڑپ کرنے کے باوجود آنکھیں موندیں چپ چاپ سوئے رہتے ہیں۔ لاہور کے امریکی قونصل خانے کا سابقہ پرنسپل آفیسر برائن ڈی ہنٹ سفارتی بھیس میں سی آئی اے کا باقاعدہ ایجنٹ تھا۔ ہنٹ پنجاب میں دیوبندی سیاسی و فلاحی تنظیموں اور مدارس کے گرد مسلسل چکراتا رہتا تھا، جامعہ منظور الاسلامیہ لاہور کے اہم افراد سے لیکر فیصل آباد مرکزی گول مسجد کے خطیب زاہد القاسمی تک سبھی برائن ڈی ہنٹ کے "پے رول" payroll پر کام کرتے تھے۔اس کیبل کے "مخبر مولانا" بھی سپاہ صحابہ کی سپریم کونسل کے رکن ضیا القاسمی کے بیٹے مولانا زاہد قاسمی ہیں۔ جنہوں نے اپنے تعلقات ایک طرف سپاہ صحابہ کے ساتھ برقرار کئے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف برائن ڈی ہنٹ کے لئے مخبری بھی کرتے ہیں۔ انہیں مولانا زاہد قاسمی صاحب کی گول مسجد اور مدرسے سے 12 ربیع الاول عید میلاد النبی ص کے موقع پر نکلنے والے جلوس پر پتھراو اور فائرنگ کی گئی۔ جس سے پنجاب کی فرقہ وارانہ فضاء انتہائی مخدوش ہو گئی۔  حکومتی سطح پر سپاہ صحابہ پر پابندی لگائی گئی، لیکن سپاہ صحابہ کی قیادت نے "ملت اسلامیہ" نام کی نئی جماعت کی بنیاد رکھ کر کام شروع کر دیا۔ "ملت اسلامیہ" پر دوبارہ پابندی کے بعد آج کل سپاہ صحابہ "اہلسنت والجماعت" کے نئے نام سے کام کر رہی ہے۔ یہ واضح ہے کہ صرف پابندی لگا دینا یا کالعدم قرار دے دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ نئی جماعت بنانے اور فعالیت روکنے کیلئے جماعت کی قیادت کو جیلوں میں بھیجنے اور غیر ملکی فنڈز کے چینلز بند کرنے کی بھی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169